Thursday, January 5, 2012
مدرسہ ابراہیمیہ ضیاء القرآن کلسیہ روڈ فتحپو رچھٹملپور ضلع سہارنپور یوپی انڈیاالحدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلمحامل القرآن حامل رابۃالاسلام من اکرمہٗ فقد اکرمہٗ ومن اھانہ علیہ لعنۃ اللہ،ترجمہ۔حامل قرآن اسلام کا جھنڈااٹھانے والاہے جس نے اسکی عزت کی ۔بیشک اس نے اللہ تعالیٰ کی عزت کی،اور جس نے اس کو ذلیل کیا،پس اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہےعلامہ اقبال کی نظر قدرشناسان مکتوبوں کو اسی حالت میں رہنے دو ،غریب مسلمانوں کے بچوں انھیں مدارس میں پڑھنے دو اگر ملّا اوردرویش نہ رہے تو جانتے ہو گا،جو کچھ ہوگا میں انھیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں ۔اگر ہندوستامی مسلمان ان مدارس کے اثر سے محروم ہو گئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمرہ کے نشانات کے سوا ء اسلام کے پیروں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا،ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل،اور دہلی کے لال قلعہ کے سوا، مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور ا ن کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔تعارفمدرسہ ابرہیمیہ ضیاء القرآن فتح پورسہارنپورسے ۲۰ کلومیٹرکے فاصلے پردہرہدون جاتے ہوئے کلسیہ روڈرپر فتحپور میں واقع ہے خداوند کریم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ابراہیمیہ ضیاء القرآن کواکابرملت اور اہل اللہ مشائخ کی سرپرستی نیزعوام الناسمیں مقبولیت اعتمادکا شرف حاصل ہے اور یہ اداررہ بھارت سرکار سے رجسٹرڈ ہےابرایمیہ ضیاء القرآن میں تجربہ کار قابل اساتذہ کی سرپرستی ہمہ گیر تعلیم کے ساتھ ساتھطلباء کی تربیت اسلامی ماحول میںڈھالنے کاص خیال رکھا جاتا ہے انتظامیہ کمیٹی۔ مدرسہ ابراہیمیہ ضیاء القرآن دیندار حضرات پر مشتمل ایک باظابطہ رجسٹرڈ کمیٹی کے تحت چل رہا ہے۔نصاب تعلیم۔کسی ادرہ کی کامیابی اور اس کی ترقی نیزشہریت کے لئے اگر کوئی امرقابل قدراور لائق تحسین ہوسکتاہے تو وہ صرف تعلمی میعارسے بچوں کا کم ازکم وقت میں تیار ہو جاتا ہے۔جس کی بنیاد لائق اور تجربہ کا راساتذہ کا اجتماع اور انکی پوری محنت اور ذمہ دارکی تنظیمی امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ تعلیمی نگرانی پرایسے جاری کردہ نصاب کی روشنی میں ہدایات کہ جس میں موجودہ زمانے کے تقاضے کے مطابق وقت کیبیحد رعایت ملحوظ اور کام بہتر سے بہتراور زیادہ سے زیادہ ہوکرٹھوس استعدادلیاقت کی ضمانت دے سکےچنانچہ مدرسہ ابراہیمیہ ضیاء القرآن فتحپور میں درس نصاب تعلیم تجربہ کارمعلمین اکابرعلماء اور دینی مدارس کے نصاب کی روشنیمیں ایسا نصاب تعلیم تیار کرکے جاری کیا گیا ہے کہ جس سے کم ازکم وقت مین چھوٹے چھوٹے بچے قران پاک حفظ ناظرہ اردو ہندی انگلش مکمل پرائمری کورس پورا کرکے سرکاری اسکولوں یا اردو ہندی انگلش مع فارسی چارسالہ کورس کی تکمیل کرکے برائے حصول درس نظامی اعلیٰ مدارس دارالعلوم دیو بند مظاہر علوم سہارنپور جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ وغیرہ میں داخل ہوکر اعلیٰ منازل طے کرتے چلے جائیں۔تربیت طلباء۔مدرسہ ابراہیمیہ ضیاء القرآن میں با صلاحیت تجربہ کار قابل اساتذہ کے ذریعہ طلباء کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پرخاص توجہ دیجاتی ہے اوررطلباء کے اندر تجسس اقدام آزادی دین کے مطابق خود پیدا کرتے پر زور دیاجاتا ہے اور اندر بڑوں اور والدین کا احترام نیز اپنے ہم سبق طالبِ علموں کے محبت اور اتحاد پیدا کرنے درس دیا جاتاہے۔دیگر تعلیمی ادارے۔علاقہ کے مسلم طلباء وطالبات جو دیگر غیر مسلم اداروں میں انگلش ہندی میڈیم سے تعلیم خاص کرتے ہیں ان غیر مسلم اداروں میں مسلم طلباء وطالبات دین ناواقفیت اور زبان کی تعلیم سے بے بہرہ نیز اسلامی ماحول سے دور ہونے پر جو نونہالان قوم کو پریشانی لاحق ہو تی ہے اس کا اندازہ ہربا شعور مسلم قوم کا فرد کر سکتا ہےجامعہ اردو علی گڈھ۔جامعہ اردو علی گڈھ کے امتحانات ادیب ۔ادیب ماہر۔ادیب کامل۔ معلم اردو کے امتحانات کا باقاعدہ ایک قدیم عرصہ سے مرکز قائم ہے جس میں خواہشمند طلباء کے لئے علیحدہ سے کلاسوں کا انتظام ہےآل انڈیاتعلیم گھر اور آل انڈیااردوتعلیم گھر لکھنؤ۔آل انڈیا تعلیم گھر لکھنؤکا مدرسہ ھٰذا میں باقاعدہ ایک قدیم عرصہ سے اردو ٹریننگ کا مرکزقائم ہے جس میں آل انڈیا تعلیم گھر سے جاری کردہ (U.T.Cیو۔ٹی۔سی)دوسالہ اردو ٹیچر سرٹیفکیٹ ڈپلومہ کرایا جاتا ہے اس کورس میں شرکت کا مجاز ہوتا ہے جو کم ازکم کسی بھی بورڈبارہویں مع اردوسے پاس شدہ ہو یہ ڈپلومہ کورسمرکزی حکومت اور تقریباََسبھی صوبائی حکومتوں سے منظورشدہ ہے فارم بھرنے داخلہ بھرنے کیلئے آپ حضرات بھی رابطہ کرسکتے ہیں طلباء کی تعداد۔مدرسہ ابراہیمیہ ضیاء القرآن میں طلباء و طالبات کی مجموعی تعداداس وقت (۴۵۵)رہی ہے جن میں بیرونی طلباء کی تعداد (۲۱۰)ہے جن کاقیام وطعام ودیگر اخراجات ہر طرح سے مدرسہ ہی کفیل رہتا ہےمطبخ۔مدرسہ ھٰذا میں مقیم بیرونی طلبا کو کھانے کے ساتھ ساتھ سردی کے موسم کے لحاظ سے چائے ناشتہ وغیرہ کا بھی نظم کیا جاتا ہے غریب ونادار امدادی طلبہ کو تمام ضروریات مدرسہ سے پورے کئے جاتے ہیں ۔ داخلہ۔امدادی طلبہ کا داخلہ۱۰؍شوال سے ہوکر مدرسہ کی مقررہ تعداد پوری ہونے تک اورغیر امدادی داخلہ پورے سال جاری رہتا ہےعمارت۔مدرسہ ابراہیمیہ ضیاء القرآن اپنی ذاتی عمارت میں قائم ہے جوکہ بارہ کمروں اور سہ دریوں پر مشتمل ہے لیکن طلباء کی تعداد اور مدرسہ کی ضروریات کے لحاظ سے عمارتیں نا کافی ہیں اسطرف فوری توجہ اور خصوصی توجہ کی ضرورت ہےدیگر ضروریات۔مدرسہ کے اندر پنکھے اور خاص طورسے ایک جنریٹر کی سخت ضرورت ہے اور اسکے علاوہ درسگاہوں کے لئیکچھ کمروں کی بھی ضرورت ہے جس ایک کمپیوٹر روم بھی شامل ہے اس کے علاوہمدرسہ میں بیت الخلاء غسل خانے وضوخانہ بھی ضروریات نیں شامل ہےمسجد کی تعمیر۔مدرسہ ھٰذا میں ایک مسجد کی تعمیر ہونی ضروری ہے اسکے لئے مدرسہ میں مسجد کی جگہ(60x40)فٹ مقرر ہے اس طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے۔مدرسہ میں اپنی عطیات بذریعہ منی آرڈر یا بینک ڈرافٹ یا دیگر سہولیات کے مطابق بھیج تے رہیں گوشوارہ آمدوخرچ بابت ماہ شوال لمکرم ۳ ۱۴۱ ھ تاشعبان المعظم ۱۴۳۲ ھآمد خرچامدادی عطایات 471972-00 مصارف مطبخ 855560-00 واجب تملیک 1218688-00 تنخواہ ملازمین567870-00 فروختگی اشیاء 46752-00 تعمیرات99425-00 داخلہ فارم فیس 3325-00 صفراء خرچ 119375-00 میزان 1749737-00 روشنی وپانی25833-00 خرچ 1794361-00 مراسلات نشرواشاعت14784-00 آمد 1749737-00 متفرقات 111514-00 زائد خرچ 53624-00 میزان1794361-00 وظیفہ۔مدرسہ ابراہیمیہ ضیاء القرآن میں ہر جمعرات کو صبح کی نشست میں کلام اللہ کی تلاوت کے بعد خاص اہتمام سےآیت کریمہ کا وظیفہ پڑھایا جاتا ہے وظیفہ کے بعدتمام مسلمانوں کے لئے عموماََ اور معاونین مدرسہ ابراہیمیہ ضیاء القرآن کے لئے خصوصاََ بارگاہ خداوندی میں دعا ء خیر کی جاتی ہے اسکے علاوہ جو حضرات اپنے کسی اہم مقاصد یا پریشانی کے موقع پر مخصوص ظور سے دعاکرانے کے لئے طلبگار ہوتے ہیں انکے لئے نام برابر لیکر دعاء کرائی جاتی ہےسرکار کائنات جناب رسولاللہﷺکے فرمان کے مطابق یقین کامل ہے کہ ان طلباء.مہمانان رسول اللہﷺکی دعائیں باگاہ خداوندی میں ضرورقبول ہوتی ہیںترسیل زر کا پتہمدرسہ ابراہیمہ ضیاء القرآن کلسیہ روڈ فتحپور چھٹملپور ضلع سہارنپور یوپی انڈیاMADARSA IBRAHEEMYA ZIYA-UL-QURAN. Kalsiya road Fatehpur chhutmalpur Dist Saharanpur UP India A/C No Bank of Baroda 38040100000168 Mobil No+919557093680
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment